5 اشعار

آنچ تو دئے کی تھی سردیوں کی شاموں میں

Aanch to diye ki thi sardiyon ki shaamon mein

آنچ تو دئے کی تھی سردیوں کی شاموں میںورنہ دھوپ کب اتری سردیوں کی شاموں میں

ہاتھ سے کبوتر تو پھر اڑا دیا میں نےرہ گئی ہے تنہائی سردیوں کی شاموں میں

ہجر اور ہجرت کو اوڑھ کر بھی دیکھا ہےسانس تک نہ چلتی تھی سردیوں کی شاموں میں

سرد گرم لمحوں کی آگ تاپتے تھے ہموہ جو اک رسوئی تھی سردیوں کی شاموں میں

آج دیر تک سلگی تیری یاد کی خوشبودل کی بات دل سے تھی سردیوں کی شاموں میں

— فرحت زاہد