4 اشعار

یادیں

Yaadein

چھوٹے چھوٹے تہواروں کی کیسی خوشیاں تھیںہم پھلجڑیاں لے کر صحن میں بھاگے پھرتے تھے

شب برات پہ میں نے بھی مانگی تھی ایک دعااس کے ہونٹوں پر بھی کتنے حرف سنہرے تھے

گرمی کی تپتی دوپہریں اور پیپل کا پیڑمیری دکھتی آنکھوں میں سکھ چین اترتے تھے

اک جیسی بے مقصد سوچیں اک جیسے ہنگامعمر کے اک حصے میں فرحتؔ ہم بھی لڑکے تھے

— فرحت زاہد