5 اشعار

یہ کیسے موڑ پہ اک مہربان چھوڑ گیا

Yeh kaise mor pe ik mehrban chhor gaya

یہ کیسے موڑ پہ اک مہربان چھوڑ گیاہوا کے رخ پہ کھلے بادبان چھوڑ گیا

نوادرات کی قیمت لگانے نکلا تھاجو آبدار بدن پر نشان چھوڑ گیا

تمام لوگ جسے قاتلوں کی صف میں رکھیںوہ میرے صحن میں اپنی کمان چھوڑ گیا

در دعا سے تمناؤں کے دریچے تکوہ میرے واسطے اک امتحان چھوڑ گیا

پہن لیا ہے اب اس نے بھی شہر کا لہجہیہ کیا ہوا کہ وہ اپنی زبان چھوڑ گیا

— فرحت زاہد