تعارف
ثروت حسین اردو کے جدید اور صاحبِ طرز شاعر تھے جنہوں نے کم عمری میں ہی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ وہ 9 نومبر 1949ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین کا تعلق بدایوں (بھارت) سے تھا جو قیامِ پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہوئے۔ ثروت حسین نے ابتدائی تعلیم ملیر کینٹ کے سرکاری اسکول سے حاصل کی، بعد ازاں علامہ اقبال کالج سے ایف۔اے کیا اور جامعہ کراچی سے ایم۔اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیمی دور ہی میں ان کی ادبی دلچسپی پختہ ہو چکی تھی اور وہ سنجیدہ ادبی مطالعے اور تخلیق کی طرف مائل ہو گئے تھے۔ادبی اعتبار سے ثروت حسین کا شمار اردو کے جدید رجحان رکھنے والے شعرا میں ہوتا ہے۔ انہوں نے غزل اور نظم دونوں میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں اختصار، معنوی گہرائی، علامتی اظہار اور داخلی کرب نمایاں ہے۔ ان کے ہاں محبت، تنہائی، زندگی کی بے معنویت اور انسانی احساسات نہایت لطیف اور جدید اسلوب میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان کا پہلا مجموعۂ کلام ’’آدھے سیارے پر‘‘ شائع ہوا جس نے انہیں ادبی حلقوں میں مستحکم مقام دلایا، جبکہ دوسرا مجموعہ ’’خاکدان‘‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا اور ان کی تخلیقی وسعت کا بھرپور اظہار ثابت ہوا۔ثروت حسین پیشہ ورانہ طور پر تدریس سے وابستہ رہے اور مختلف سرکاری کالجوں میں اردو کے لیکچرر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ مشاعروں، ادبی نشستوں اور ریڈیو پاکستان کے ادبی پروگراموں میں بھی شریک ہوتے رہے۔ 9 ستمبر 1996ء کو کراچی میں ایک ریل حادثے میں ان کا انتقال ہوا، تاہم اس واقعے کے بارے میں ادبی دنیا میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ مختصر زندگی کے باوجود ثروت حسین نے اردو شاعری کو ایک گہرا، جدید اور فکری لہجہ عطا کیا اور آج بھی ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جن کا کلام سنجیدہ قارئین اور ناقدین کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔
منتخب اشعار
بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر
اس نے اپنے ہونٹھ جو رکھے میرے بالوں بھرے سینے پر
اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا
جنگل کے اندھیروں میں کٹا ہے سفر اپنا
کلام
- 01 بادل گرجے دیواروں میں بجلی چمکی آئینے پر Badal garje deewaron mein bijli chamki aaine par آواز میں دستیاب
- 02 اب کس سے کہیں بھول گئے ہیں نگر اپنا Ab kis se kahein bhool gaye hain nagar apna آواز میں دستیاب
- 03 ایسا بھی کوئی مہرباں جو مرے ساتھ چل سکے Aisa bhi koi meherbaan jo mere saath chal sake آواز میں دستیاب
- 04 رفتہ رفتہ اک ہجوم کہکشاں بنتا گیا Rafta rafta ik hujoom kahkashaan banta gaya آواز میں دستیاب
- 05 آدمی کو رہ دکھانے کے لئے موجود ہیں Aadmi ko rah dikhaane ke liye maujood hain آواز میں دستیاب
- 06 کوئی نشاں سر دیوار و بام اپنا نہیں Koi nishaan sar-e-deewar-o-baam apna nahin آواز میں دستیاب