3 اشعار

کھلتی ہوئی مٹھی میں آنسو ہے کہ تارا ہے

Khulti hui muthi mein aansoo hai ke tara hai

کھلتی ہوئی مٹھی میں آنسو ہے کہ تارا ہےاک خواب تمہارا ہے اک خواب ہمارا ہے

لمحوں کی کلائی میں بس یاد کھنکتی ہےبہہ جاتے ہیں سب اس میں یہ وقت کا دھارا ہے

کیا دشت رفاقت میں احساس کی صورت ہےکیسے اسے بتلائیں کیا حال ہمارا ہے

— فرحت زاہد