5 اشعار

تھکن سے چور ہیں اور گرد سے اٹے ہیں ہم

Thakan se choor hain aur gard se ate hain hum

تھکن سے چور ہیں اور گرد سے اٹے ہیں ہمنظر اٹھا کہ تری سمت دیکھتے ہیں ہم

وہی چراغ وہی میں وہی فسوں تیراہر ایک بار یوں ہی تجھ کو چاہتے ہیں ہم

ترے خیال کی خوشبو اداس کرتی ہےترے سراب کی وادی میں گونجتے ہیں ہم

یہ اور بات ترے ساتھ دن گزرتا ہےیہ اور بات تری نیند میں رہے ہیں ہم

کبھی کبھی تو یوں رستے میں شام ہوتی ہےکہ حوصلوں کی طرح خود میں ٹوٹتے ہیں ہم

— فرحت زاہد