11 اشعار

سن حوا کی بیٹی

Sun Hawa ki beti

کوئی دن ایسا بھی آیا کیاتم جی پائی ہو اپنے لیے

تم مر پائی ہو اپنے لیےکبھی کھل کر ہنسنا سیکھا ہو

کسی خواب کو چھو کر دیکھا ہوجاگی ہو اپنی صبحوں میں

کبھی سوئی اپنی آنکھ سے تمڈالی ہو اپنی جھولی میں

کبھی چاہت اپنے حصے کیکبھی تنہائی کے پیالے میں

کوئی لمحہ امرت جیسا بھیکبھی روح کے صحرا میں گونجا

کوئی نام خدا سے پیارا بھیکبھی زنگ آلود کواڑوں پر

کسی گیت نے کوئی دستک دیکبھی گونگے بہرے لمحوں میں

آسیب کوئی ہم زاد کوئیکبھی دل کا بوجھ اتارا بھی

کوئی دن ایسا بھی آیا کیاتم جی پائی ہو اپنے لیے

تم مر پائی ہو اپنے لیے

— فرحت زاہد