تعارف
ولی محمد ولی، جنہیں ادبی دنیا میں زیادہ تر ولی دکنی یا ولی اردو کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اردو غزل کے باقاعدہ بنیاد رکھنے والے پہلے عظیم شاعر مانے جاتے ہیں۔ ان کا اصل نام ولی محمد تھا، اور تخلص ولی اختیار کیا۔ 1667ء میں اورنگ آباد (دکن) میں پیدا ہوئے۔ دکن کی تہذیبی فضا، فارسی دانی اور صوفیانہ ماحول نے ان کے ذہن اور شعر دونوں کو گہری تاثیر بخشی۔ انہوں نے اپنی جوانی کے اکثر برس سفر، مشاہدے اور روحانی تجربات میں گزارے، جس کا عکس ان کے کلام میں جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ولی دکنی کی سب سے بڑی ادبی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے فارسی غزل کی روایت کو اردو میں منتقل کیا اور اسے ایسا معیار، آہنگ اور نغمگی عطا کی کہ بعد کے تمام بڑے شعرا—خواجہ میر درد، میر تقی میر، اور سودا تک—ان کے اثر سے مبرّا نہ رہے۔ ’’دیوانِ ولی‘‘ اردو کا وہ پہلا باقاعدہ دیوان تھا جس نے دہلی کے شعرا کو اردو غزل کی طرف راغب کیا اور اس زبان کو ادبی وقار بخشا۔ ان کی شاعری میں عشق کی لطافت، بیان کی سادگی، اور زبان کی مضبوطی پوری شان کے ساتھ موجود ہے۔ولی محمد ولی کا طرزِ بیان نرم، سریلا اور دل میں اتر جانے والا تھا۔ انہیں بجا طور پر ’’باباِ اردو غزل‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ انہوں نے دکنی اور دہلوی زبانوں کے ملاپ سے اردو غزل کی بنیاد مستحکم کی۔ روایت ہے کہ وہ تقریباً 1747ء کے نزدیک وفات پا گئے۔ ان کی شاعری آج بھی اردو غزل کی اساس سمجھی جاتی ہے، اور ان کا نام ہمیشہ ان اولین اساتذہ میں شمار رہے گا جنہوں نے اردو کو ایک باوقار ادبی زبان بنایا۔
منتخب اشعار
یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا
ہے وظیفہ مجھ دل بیمار کا
وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ
آتش عشق پڑی عقل کے سامان میں آ
کلام
- 01 یاد کرنا ہر گھڑی اس یار کا Yaad karna har ghadi us yaar ka آواز میں دستیاب
- 02 وو صنم جب سوں بسا دیدۂ حیران میں آ Wo sanam jab son basa dida-e-hairan mein aa آواز میں دستیاب
- 03 وہ نازنیں ادا میں اعجاز ہے سراپا Woh nazneen ada mein ejaz hai sarapa آواز میں دستیاب
- 04 تجھ لب کی صفت لعل بدخشاں سوں کہوں گا Tujh lab ki sifat laal-e-Badakhshan son kahunga آواز میں دستیاب
- 05 ترا مجنوں ہوں صحرا کی قسم ہے Tera majnun hoon sahra ki qasam hai آواز میں دستیاب
- 06 ترا لب دیکھ حیواں یاد آوے Tera lab dekh haiwan yaad aave آواز میں دستیاب