5 اشعار

خواب اٹھا کر طاق پہ رکھے میں نے بھی

Khwab utha kar taaq pe rakhe main ne bhi

خواب اٹھا کر طاق پہ رکھے میں نے بھیدنیا تیرے ناز اٹھائے میں نے بھی

وہ بھی امیدوں پر پورا کب اتراتوڑ دیے آدرش پرانے میں نے بھی

عشق روایت بن کر میرے ساتھ چلاتصویروں کے آنسو دیکھے میں نے بھی

نئی نویلی آوازوں کا شور اٹھاکن اکھیوں سے منظر دیکھے میں نے بھی

آتے آتے آئی ہے دنیا داریرنج اسارے درد سنوارے میں نے بھی

— فرحت زاہد