8 اشعار

بہار آئی گل افشانیوں کے دن آئے

Bahar aayi gul-afshaniyon ke din aaye

بہار آئی گل افشانیوں کے دن آئےاٹھاؤ ساز غزل خوانیوں کے دن آئے

نگاہ شوق کی گستاخیوں کا دور آیادل خراب کی نادانیوں کے دن آئے

نگاہ حسن خریداریوں پہ مائل ہےمتاع شوق کی ارزانیوں کے دن آئے

مزاج عقل کی ناسازیوں کا موسم ہےجنوں کی سلسلہ جنبانیوں کے دن آئے

سروں نے دعوت آشفتگی کا قصد کیادلوں میں درد کی مہمانیوں کے دن آئے

چراغ لالہ و گل کی ٹپک پڑی ہیں لویںچمن میں پھر شرر افشانیوں کے دن آئے

بہار باعث جمعیت چمن نہ ہوئیشمیم گل کی پریشانیوں کے دن آئے

ادھر چمن میں زر گل لٹا ادھر تاباںؔہماری بے سر و سامانیوں کے دن آئے

— غلام ربانی تاباں