7 اشعار

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوں

Lutf yeh hai jise aashob-e-jahan kehta hoon

لطف یہ ہے جسے آشوب جہاں کہتا ہوںاسی ظالم کو فروغ دل و جاں کہتا ہوں

غیر کا ذکر ہی کیا مفت میں الزام نہ دودل کی ہر بات میں تم سے بھی کہاں کہتا ہوں

کسی مجبور کے ہونٹوں پہ جو آ جاتا ہےاس تبسم کو میں اعجاز فغاں کہتا ہوں

نہ میں زندانی‌ٔ صحرا نہ اسیر گلشنکوئی بندش ہو اسے جی کا زیاں کہتا ہوں

دل شکستہ سہی مایوس نہیں ہوں اے دوستمیں کہ ہر دور کو دور گزراں کہتا ہوں

حسن کا شیوۂ پیماں شکنی اچھا ہےپھر بھی ہر سانس کو چشم نگراں کہتا ہوں

کوئی حد ہے مری آشفتہ سری کی تاباںؔان کی زلفوں کو چراغوں کا دھواں کہتا ہوں

— غلام ربانی تاباں