7 اشعار

لائی تری محفل میں مجھے آرزوئے دید

Layi teri mehfil mein mujhe aarzoo-e-deed

لائی تری محفل میں مجھے آرزوئے دیددرپیش ہے پھر مرحلۂ طور کی تجدید

مایوس تمناؤں کو اے دوست تری یادجیسے افق بیم پہ اک اختر امید

خود اپنا قفس بن گئی کوتاہی پروازکچھ دور نہیں ورنہ جہان مہ و خورشید

ایک ایک ادا شوق کی تہذیب پہ مائلایک ایک نظر شوخئ جذبات کی تنقید

جو خود نہ سمجھ پائے وہ سمجھائے تو کیسےافکار میں ابہام تو گفتار میں تعقید

جینا بھی عبادت اسے پینا بھی عبادتحاصل ہو جسے چشم سیہ مست کی تائید

پندار جنوں ہو نہ سکا رام گدائیراس آئے نہ تاباںؔ مجھے الطاف صنادید

— غلام ربانی تاباں