7 اشعار

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیا

Numu ke faiz se rang-e-chaman nikhar sa gaya

نمو کے فیض سے رنگ چمن نکھر سا گیامگر بہار میں دل شورشوں سے ڈر سا گیا

جفائے دوست بہت سازگار آئی ہےخراب ہو کہ یہ دل اور کچھ سنور سا گیا

نہ جانے باد صبا کیا پیام لائی تھیکہ پھول ہنس تو دیا پھر بھی منہ اتر سا گیا

بہ فیض شوق یہ دن دیکھنا نصیب ہواکہ سر سے درد کا طوفاں گزر گزر سا گیا

طلسم بزم فسون جمال سحر شبابنگاہ شوق کا دامن گلوں سے بھر سا گیا

وہ شام ہو گئی منسوب ان کی یاد کے نامچراغ جل سا گیا داغ دل ابھر سا گیا

وہ ایک شوخ کا انداز گفتگو تاباںؔجگر میں طنز کا نشتر اتر اتر سا گیا

— غلام ربانی تاباں