15 اشعار

دریا

Darya

خشک کیکر کے پیڑوں نےلو کے تھپیڑوں نے

دھرتی کے بیتاب سینے سےسرسبز دریا کی مورت

ابھرنے نہیں دیمنوں مٹی کے نیچے

بے شکل تودوںسیہ رنگ پودوں کے ہم راہ دن کاٹتا ہوں

گزر گاہ صد رنگآنکھوں میں بستی ہے

گیلے کناروں پہ پیڑوں کے نیچےدو آبے کی مہکار اڑتی ہے

میدانی دنیا کی جانب گزر گاہ مڑتی ہےدریا کے گیلے کناروں پہ

تہذیب پلتی ہےاپلوں کے پھولوں کے اوپر

دہکتے تووں پرچھنکتے ہوئے سرخ ہاتھوں کی

چمکیلی پوریں ہیںتہمد کے پھاٹوں میں

ابرق سی رانوں کیرنگت چمکتی ہے

گہرے سلونے سمے ہیںفلک کے ستارے ہیں

پیڑوں پہ پینگیں ہیںپینگوں کے لمبے ہلارے ہیں

چادر میں ملفوف مدھم نشانوں میں مدہوش رہتا ہوںدریا ہوں

اک سیل محبوس ہوںاور اندھے بہاؤ کے اندھے تصور میں بہتا ہوں

— اقتدار جاوید