17 اشعار

مقام سخت پر نگاہ

Maqam sakht par nigah

میں نے اپنی دکھ بھری وفاتاپنی زندگی کی آخری طویل رات

بھاری رات دیکھ لیمیں ایک مشت بے ضرر

خود اپنے خانداں کے مکر کو بھگت چکابرت چکا ہوں

اپنے آخری کریم سانس کونگل چکا

سیہ دنوں کی دھول میںاٹھا چکا

احاطۂ وجود سےاگے ہزار رنگ کے ہزار پھول میں

نہیں تیاگنا نہیںوجود اپنا میں نے اس طرح

میں اپنی راکھ اپنے ہاتھ سے نہیں اڑاؤں گاکھڑے رہیں گے لوگ

یوںہی صف بہ صفکسی کے ہاتھ میں نہ آؤں گا

کفن کو اوڑھ کر بڑھا ہوا ہوں میںکفن کو اوڑھ کر نہیں مروں گا میں

کسی کے قطب منجمد میںاپنے آپ کو نہیں ہے گالنا مجھے

جو اصل ست ہے اصل زر ہےبیچ میں کہیں چمکتی ریت کی طرح پڑا ہوا

نہیں نکالنا مجھےمیں کر کے مرتکز مقام سخت پر نگاہ

اپنے ہاتھ پاؤں دیکھنے لگادماغ کی رگیں

ابھر کے کنپٹی کو سرخ کر گئیںمیں اپنے کاندھے اپنا پیٹ

اپنا درمیاناپنی دھوپ‌ چھاؤں دیکھنے لگا

میں خود کو لحظہ لحظہ خود میں جوڑنے لگامیں سانس توڑتا ہوا زمیں کو چھوڑنے لگا

— اقتدار جاوید