23 اشعار

کھڑکی نامہ

Khidki Nama

مجھ میں کھڑکی بر آمد ہوئیجس کے پیچھے مرصع کئی رنگوں والے

پراسرار پردے کسی نے ہلائےہوا جن سے ہو ہو کے گزری

زمیں دوز سیٹی کسی نے بجائیدرختوں کے جھنڈ سے اگر تیز تر ہو کے گزری

تو پتوں کے اک دوسرے سے لپٹنے کی آواز آئیکوئی جیسے ہنس ہنس کے تالی بجائے

پراسرار پردوں کے پیچھےپکے پھل سے مامور شاخوں نے جھولے جھلائے

ذرا آگے رنگیں افق کا کنارہ لرزتاافق کے کنارے کی سرخی اسی کھڑکی کی سمت آتی

کنارے کی سرخی کا سیلاب چڑھتالہو رنگ کی چادریں پھٹتیں

چاندی کا ٹھنڈا کنواں ڈول پڑتانکلتا وہیں سے پگھلتے ہوئے گرم سونے کا پانی

نکل آتا ریلاپرانے پڑے پانی کا روپ تبدیل ہو جاتا

ریلے کے پانی کی شکلیں بدل جاتیںکھڑکی سے لگتا تو لگتا

اڑے جا رہے ہیں مکاناتگرتے چلے جا رہے ہیں کنارے

بہت گہری مٹی بہت سرخ مٹی کا ریلانہ جس کی کوئی ابتدا ہوتی نا مختتم انت ہوتا

خطرناک ریلا کھلی کھڑکی کے ساتھ لگ کر گزرتاتو پانی کی رفتار بڑھتی

بھنور بننے لگتےوہاں کوئی آہن ربا کھینچتا جا رہا تھا

کشش تھی کہ بڑھتی چلی جا رہی تھیابھرتی چلی جا رہی تھی عمق والی کھائی

ہر اک شے اسی گھومتی کھائی کی تہہ کی جانب اترتی چلی جا رہی تھیہواؤں کا طوفان ریلوں کا کھڑکار آہن ربا کی

ہمہ وقت بیدار منہ زور بھاری کشش سے نکلتا نہیں تھاکوئی میری جانب لپکتا نہیں تھا

مہا رنگ والے تماشے کے موجب کو تکتا نہیں تھاکسی نے اسی کھڑکی کے پیچھے ہلتے مرصع پراسرار پردے ہٹائے

ہٹائے وہ پردےجہاں سے ہر اک چیز زیر و زبر کرتا سیلاب اب بھی امنڈتا چلا آ رہا تھا

وہیں سے وہ نکلیہر اک شے کو تاراج کرتی

مری سمت آئیسبھی چیزوں سے بچ کے اس نے

اسی کھڑکی کو دیکھاکھڑکی پہ کہنی ٹکائی

مجھے دیکھاکھڑکی ہٹائی

— اقتدار جاوید