12 اشعار

سیل آب

Sail Aab

رات میری آنکھ جب کھلیتو کھاٹ میری ہل رہی تھی

ہل رہی تھی ناؤسیل آب کے مقام اصل پر

ستارے جھڑ رہے تھے آسمان سےخلا بذات خود سیاہ ہول تھا بنا ہوا

پہاڑ سے نکل رہی تھیتیز دھار کی طرح ہوا

ابل رہا تھاجیسے سیل آب کے مقام سے

اندھیرا آب سرد کو لپیٹتانگل رہا تھا روشنی کی زرد سی لکیر کو

الٹ رہی تھی کائنات اک طرفکسی کا دست نازنیں

مری جبین پر رکاشفق سے سرخ ہونٹ

میرے خشک ہونٹوں سے ملےمیں جی اٹھا

میں مسکرا کے جاگ اٹھاافق کے دشت میں

طلسم احمریں چہار سمت تھا اسی طرحمعاً سفید دن نکل پڑا

نظام کائنات پھر سے چل پڑا

— اقتدار جاوید