15 اشعار

ثمر فروش

Samar Farosh

ثمر فروش کی نگاہ دوربین میںاندھیرا درمیان سے پھٹا

بہت سے سبز پوش تھےکہ جن کا ریشمیں لبادہ سرخ تھا

گل انار سرخ ہونٹوں سے زیادہ سرخ تھاپکے ہوئے پھلوں کی خوشبوئیں تھیں مجتمع

گھلی نہ تھی ابھی احاطۂ سیاہ میں ہواپکے ہوئے پھلوں بھری مہک ابھی اڑی نہ تھی

مقام متصل سے بے خبرنقاب در نقاب مختصر سی ایک بیل

تھی چھپی ہوئیدلہن کی طرح اپنے آپ میں

ابھی ہلے نہیں ہیں شاخچےلرزنی ہے ابھی نوائے خوش موذن جوان کی

ابھی طیور تک خموش ہیںنہ جو کسی بھی ذو فنون سمت سے بڑھے

نہ جو کسی کے تازہ جسم و جان سے اٹھےدبیز خامشی میں بولتا

دبیز خامشی کو چیرتا سروش ہےچھڑک دیا کسی نے آب زرفشان جھنڈ پر

چمک اٹھا سفید دنکھلا ثمر فروش خوشبوؤں میں بند باغ دیکھ کر

ہزار رنگوں والی تتلیاںجو اک نحیف شاخچے سے لگ کے سو رہی تھیں

جاگنے لگیںسہاگنیں درون توڑتی

دمکتے خواب کو تیاگنے لگیںسیاہ بادلوں کی نرم اور مہین چادروں سے

باغ ڈھانپنے لگیںثمر فروش کی نگاہ دوربین

— اقتدار جاوید