25 اشعار

روپوش ہونے کا دن

Rooposh Hone Ka Din

افق والے تہہ خانے سےوہ بر آمد ہوا دن

جو قرنوں پہ بھاری ہےآنکھوں کے آگے

اندھیرے کا ملبہ گراتا ہےچوطرف گھیرا بناتا ہے

ہیبت بڑھاتا ہےمخبر

بڑے آتشی شیشے سےراستوں کا گھنا جال تکتا ہے

باہرتغارے کے نیچے قدم کے نشاں کو چھپایا ہوا ہے

لحد کی ذرا سی جگہ کوفلک زار گنبد بنایا ہوا ہے

گھروں کی چھتیں اڑنے بجلی کڑکنےمعاً قرص خورشید چھپنے

سفیدی بھرے آسمانی کنارے کے تاریک ہونے کا دن آ گیا ہےشرارت سے سرشار

بہنوں کے خاموش ہونے کااور ماں کے خاموش ہونے کا دن آ گیا ہے

مری ماںمری ان کہی باتیں ایسے سمجھتی تھی

داؤد جیسے پرندوں کی باتیں سمجھتا تھاماں کی محبت بھری گود آٹے کا پیڑا تھی

جب میں ہمکتاتو ماں کی محبت بھری گود ایسے پگھلتی تھی

داؤد کے ہاتھ میں جیسے لوہا پگھلتا تھامیں ٹوٹتا تو

حرارت بھری گود میںایسے جڑتا تھا

سارہ کے خاوند کی آواز پرجس طرح مرغ جڑتا تھا

اور دل تشکر سے بھرتا تھاسارہ کے خاوند کا دل

ان پہاڑوں کے پیچھےکہیں پر صفا اور مروہ نہیں تھی

جہاں ماں مری دوڑ سکتیپھٹے ناخنوں اور رعشہ زدہ جسم سے

وہ محبت بھرے گرم پانی چمکتے ہوئے آنسوؤں جیسے پانی کی خواہش میںکیسے کنواں کھود سکتی

جہاں پر نہ پانی کی روشن جبیں تھینہ پانی تھا

میں نے کہا تھا کہ ماںمیرے لوہے کی صورت پگھلنے مرے مرغ کی طرح

ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کا دن آ گیا ہےزمانوں تلک

تیرے رونے کابہنوں کے خاموش ہونے کا

اور میرے روپوش ہونے کا دن آ گیا ہے

— اقتدار جاوید