8 اشعار

اوس سے بھرا گلاس

Oos Se Bhara Glass

وہ پھل ہے رس بھراکہ پھل کی رس بھری اساس ہے

ہے سب کی دسترس میں وہیا صرف میرے آس پاس ہے

لبوں کو کھولتیوہ عام گفتگو ہے

یا لبوں کو سیل کرتا اک معاملۂ خاص ہےمری طرح وہ شاد کام ہے

یا خاندان والوں کی طرح اداس ہےوہ آ گیا تو ہو گئی ہے جامنی فضا

کہاور ہے کوئی کہ جس کا جامنی لباس ہے

ہے باغ کی روشیا

مین گیٹ کے قریب لہلہاتی گھاس ہےوہ اوس ہے کہ اوس سے بھرا پرا گلاس ہے

— اقتدار جاوید