5 اشعار

اک حسن باریاب سے آگے نہیں بڑھے

Ek husn-e-baryab se aage nahin badhe

اک حسن باریاب سے آگے نہیں بڑھےیعنی ہم ایک خواب سے آگے نہیں بڑھے

اک شہر بے مراد میں کاٹی تمام عمراک خانۂ خراب سے آگے نہیں بڑھے

تجھ کو پلٹ کے دیکھنے کے دکھ سے بچنا تھاہم لوگ اس حساب سے آگے نہیں بڑھے

آگے تو بڑھ گئے ہیں تمہارے بغیر بھیلیکن ہم آب و تاب سے آگے نہیں بڑھے

ہم نے اسے گلاب دیا آگے بڑھ کے رازؔاور پھر ہم اس گلاب سے آگے نہیں بڑھے

— اسماعیل راز