4 اشعار

زمانے کے لیے بہرے ہوئے تھے ہم دونوں

Zamaane ke liye behre hue the hum dono

زمانے کے لیے بہرے ہوئے تھے ہم دونوںتو دیر تک کہیں ٹھہرے ہوئے تھے ہم دونوں

ہم ایک دوسرے کے دل پہ چڑھ گئے تو دکھاکئی نگاہوں سے اترے ہوئے تھے ہم دونوں

کوئی ہماری تہوں تک پہنچ سکا ہی نہیںسمندروں سے بھی گہرے ہوئے تھے ہم دونوں

پھر ایک دوسرے کو گولی مار دی ہم نےہر ایک سمت سے گھیرے ہوئے تھے ہم دونوں

— اسماعیل راز