6 اشعار

طعنے

Ta'ne

کل شب میں شہر عشق سے لوٹا جو اپنے گھردروازے طعنے کسنے لگا میرے حال پر

بولا دریچہ کیسے اکیلے ادھر جنابکیوں اور کہاں پہ چھوٹ گیا ہم سفر جناب

چپ جو ہوا دریچہ تو گونجی صدائے باماب کر سکو گے سائے تلے میرے تم قیام

دیوار بولی کرکے مخاطب تمام کومحتاج ہو گیا ہے بیچارہ کلام کو

اک ہو گئے دریچہ و دیوار و بام و درمیں چپ ہی تھا کہ بول پڑا سارا گھر کا گھر

پائی تھی کائنات ہی تم نے تو پیار میںکیوں لٹ کے پھر تم آ گئے ہو اس حصار میں

— اسماعیل راز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں