8 اشعار

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

Allāh agar taufīq na de insān ke bas kā kaam nahīñ

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں

«اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 21 سیکنڈ ہے۔

اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیںفیضان محبت عام سہی عرفان محبت عام نہیں

یہ تو نے کہا کیا اے ناداں فیاضی قدرت عام نہیںتو فکر و نظر تو پیدا کر کیا چیز ہے جو انعام نہیں

یارب یہ مقام عشق ہے کیا گو دیدہ و دل ناکام نہیںتسکین ہے اور تسکین نہیں آرام ہے اور آرام نہیں

کیوں مست شراب عیش و طرب تکلیف توجہ فرمائیںآواز شکست دل ہی تو ہے آواز شکست جام نہیں

آنا ہے جو بزم جاناں میں پندار خودی کو توڑ کے آاے ہوش و خرد کے دیوانے یاں ہوش و خرد کا کام نہیں

زاہد نے کچھ اس انداز سے پی ساقی کی نگاہیں پڑنے لگیںمے کش یہی اب تک سمجھے تھے شائستہ دور جام نہیں

عشق اور گوارا خود کر لے بے شرط شکست فاش اپنیدل کی بھی کچھ ان کے سازش ہے تنہا یہ نظر کا کام نہیں

سب جس کو اسیری کہتے ہیں وہ تو ہے امیری ہی لیکنوہ کون سی آزادی ہے یہاں جو آپ خود اپنا دام نہیں

— جگر مراد آبادی