شاعر

عدیم ہاشمی

Adeem Hashmi

28
منتخب کلام
28
آواز میں کلام
1
محفلیں
کلام پڑھیں

تعارف

عدیم ہاشمی اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار تھے جن کا اصل نام فصیح الدین تھا اور وہ یکم اگست 1946ء کو فیروز پور (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پاکستان آ گئے اور لاہور کو اپنی ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ عدیم ہاشمی کا شمار جدید اردو غزل کے ان شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کلاسیکی روایت کو عصری حسیت کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ ان کی شاعری انسانی جذبات، محبت، جدائی، تنہائی اور سماجی شعور کی گہری ترجمان ہے، جس نے انہیں اہلِ ادب اور عام قارئین دونوں میں یکساں مقبولیت عطا کی۔عدیم ہاشمی نے غزل، نظم اور دیگر شعری اصناف میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والا ہے، جس کی ایک نمایاں مثال ان کا مشہور شعر “فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا” ہے جو آج اردو شاعری کی شناخت بن چکا ہے۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں ترکش، مکالمہ، چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے، فاصلے ایسے بھی ہوں گے اور بہت نزدیک آتے جا رہے ہو شامل ہیں۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انہوں نے ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے بھی نمایاں کام کیا، جن میں پی ٹی وی کے ڈرامے آغوش اور مقبول مزاحیہ سیریز گیسٹ ہاؤس خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، جو ان کی تخلیقی وسعت اور فنی مہارت کا ثبوت ہیں۔عدیم ہاشمی ایک حساس اور باخبر فنکار تھے جنہوں نے اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی حالات پر بھی جرات مندانہ اظہار کیا، حتیٰ کہ بعض اوقات انہیں مخالفت اور جلاوطنی جیسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ طویل عرصہ دل کے عارضے میں مبتلا رہنے کے بعد وہ 5 نومبر 2001ء کو شکاگو، امریکہ میں دل کی سرجری کے دوران انتقال کر گئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔ عدیم ہاشمی کا ادبی ورثہ آج بھی اردو ادب میں ایک قیمتی سرمایہ سمجھا جاتا ہے، اور ان کا کلام نئی نسل کے شاعروں اور قارئین کے لیے مسلسل رہنمائی کا ذریعہ ہے

منتخب اشعار

شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں

تتلی ملی حنوط پرانی کتاب میں

پورا کلام ‹

ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر

کیسا ہے وہ اتنا تو بتا دے کوئی آ کر

پورا کلام ‹
  1. 01 شامل تھا یہ ستم بھی کسی کے نصاب میں Shaamil tha ye sitam bhi kisi ke nisaab mein آواز میں دستیاب
  2. 02 ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر Aisa bhi nahin us se mila de koi aa kar آواز میں دستیاب
  3. 03 کوئی پتھر کوئی گہر کیوں ہے Koi patthar koi gauhar kyun hai آواز میں دستیاب
  4. 04 ہم بہر حال دل و جاں سے تمہارے ہوتے Hum bahar haal dil-o-jaan se tumhare hote آواز میں دستیاب
  5. 05 اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا Ek pal baghair dekhe use kya guzar gaya آواز میں دستیاب
  6. 06 تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر Tamaam umr ki tanhaai ki saza de kar آواز میں دستیاب