9 اشعار

دل کو سکون روح کو آرام آ گیا

Dil ko sukūñ rūh ko ārām aa gayā

دل کو سکون روح کو آرام آ گیا

«دل کو سکون روح کو آرام آ گیا» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

دل کو سکون روح کو آرام آ گیاموت آ گئی کہ دوست کا پیغام آ گیا

جب کوئی ذکر گردش آیام آ گیابے اختیار لب پہ ترا نام آ گیا

غم میں بھی ہے سرور وہ ہنگام آ گیاشاید کہ دور بادۂ گلفام آ گیا

دیوانگی ہو عقل ہو امید ہو کہ یاساپنا وہی ہے وقت پہ جو کام آ گیا

دل کے معاملات میں ناصح شکست کیاسو بار حسن پر بھی یہ الزام آ گیا

صیاد شادماں ہے مگر یہ تو سوچ لےمیں آ گیا کہ سایہ تہ دام آ گیا

دل کو نہ پوچھ معرکۂ حسن و عشق میںکیا جانیے غریب کہاں کام آ گیا

یہ کیا مقام عشق ہے ظالم کہ ان دنوںاکثر ترے بغیر بھی آرام آ گیا

احباب مجھ سے قطع تعلق کریں جگرؔاب آفتاب زیست لب بام آ گیا

— جگر مراد آبادی