9 اشعار

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

Duniyā ke sitam yaad na apnī hī wafā yaad

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد

«دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاد» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

دنیا کے ستم یاد نہ اپنی ہی وفا یاداب مجھ کو نہیں کچھ بھی محبت کے سوا یاد

میں شکوہ بلب تھا مجھے یہ بھی نہ رہا یادشاید کہ مرے بھولنے والے نے کیا یاد

چھیڑا تھا جسے پہلے پہل تیری نظر نےاب تک ہے وہ اک نغمۂ بے ساز و صدا یاد

جب کوئی حسیں ہوتا ہے سرگرم نوازشاس وقت وہ کچھ اور بھی آتے ہیں سوا یاد

کیا جانئے کیا ہو گیا ارباب جنوں کومرنے کی ادا یاد نہ جینے کی ادا یاد

مدت ہوئی اک حادثۂ عشق کو لیکناب تک ہے ترے دل کے دھڑکنے کی صدا یاد

ہاں ہاں تجھے کیا کام مری شدت غم سےہاں ہاں نہیں مجھ کو ترے دامن کی ہوا یاد

میں ترک رہ و رسم جنوں کر ہی چکا تھاکیوں آ گئی ایسے میں تری لغزش پا یاد

کیا لطف کہ میں اپنا پتہ آپ بتاؤںکیجے کوئی بھولی ہوئی خاص اپنی ادا یاد

— جگر مراد آبادی