16 اشعار

اس کی نظروں میں انتخاب ہوا

Uski nazron mein intikhab hua

اس کی نظروں میں انتخاب ہوا

«اس کی نظروں میں انتخاب ہوا» جگر مراد آبادی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

اس کی نظروں میں انتخاب ہوادل عجب حسن سے خراب ہوا

عشق کا سحر کامیاب ہوامیں ترا تو مرا جواب ہوا

ہر نفس موج اضطراب ہوازندگی کیا ہوئی عذاب ہوا

جذبۂ شوق کامیاب ہواآج مجھ سے انہیں حجاب ہوا

میں بنوں کس لیے نہ مست شرابکیوں مجسم کوئی شباب ہوا

نگۂ ناز لے خبر ورنہدرد محبوب اضطراب ہوا

میری بربادیاں درست مگرتو بتا کیا تجھے ثواب ہوا

عین قربت بھی عین فرقت بھیہائے وہ قطرہ جو حباب ہوا

مستیاں ہر طرف ہیں آوارہکون غارت گر شراب ہوا

دل کو چھونا نہ اے نسیم کرماب یہ دل روکش حباب ہوا

عشق بے امتیاز کے ہاتھوںحسن خود بھی شکست یاب ہوا

جب وہ آئے تو پیشتر سب سےمیری آنکھوں کو اذن خواب ہوا

دل کی ہر چیز جگمگا اٹھیآج شاید وہ بے نقاب ہوا

دور ہنگامۂ نشاط نہ پوچھاب وہ سب کچھ خیال و خواب ہوا

تو نے جس اشک پر نظر ڈالیجوش کھا کر وہی شراب ہوا

ستم خاص یار کی ہے قسمکرم یار بے حساب ہوا

— جگر مراد آبادی