9 اشعار

اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر

Ab khaak to kya hai dil ko jala jala kar

اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کرکرتے ہو اتنی باتیں کیوں تم بنا بنا کر

عاشق کے گھر کی تم نے بنیاد کو بٹھایاغیروں کو پاس اپنے ہر دم بٹھا بٹھا کر

یہ بھی کوئی ستم ہے یہ بھی کوئی کرم ہےغیروں پہ لطف کرنا ہم کو دکھا دکھا کر

اے بت نہ مجھ کو ہرگز کوچے سے اب اٹھاناآیا ہوں یاں تلک میں ظالم خدا خدا کر

دیتا ہوں میں ادھر جی اپنا تڑپ تڑپ کردیکھے ہے وہ ادھر کو آنکھیں چرا چرا کر

کوئی آشنا نہیں ہے ایسا کہ با وفا ہوکہتے ہو تم یہ باتیں ہم کو سنا سنا کر

جلتا تھا سینہ میرا اے شمع تس پہ تو نےدونی لگائی آتش آنسو بہا بہا کر

اک ہی نگاہ کر کر سینے سے لے گیا وہہر چند دل کو رکھا ہم نے چھپا چھپا کر

جرأت نے آخر اپنے جی کو بھی اب گنوایاان بے مروتوں سے دل کو لگا لگا کر

— جرات قلندر بخش