8 اشعار

برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتا

Barham kabhi qaasid se woh mahboob na hota

برہم کبھی قاصد سے وہ محبوب نہ ہوتاگر نام ہمارا سر مکتوب نہ ہوتا

خوبان جہاں کی ہے ترے حسن سے خوبیتو خوب نہ ہوتا تو کوئی خوب نہ ہوتا

اسلام سے برگشتہ نہ ہوتے بخدا ہمگر عشق بتاں طبع کے مرغوب نہ ہوتا

کیوں پھیر وہ دیتا مجھے لے کر مرے بر سےاتنا جو دل زار یہ معیوب نہ ہوتا

اس بت کو خدا لایا ہے ہم پاس وگرنہجینے کا ہمارے کوئی اسلوب نہ ہوتا

دل آج کے دن پاس جو ہوتا مرے تو آہ!آنے سے میں اس شوخ کے محجوب نہ ہوتا

ہیں لازم و ملزوم بہم حسن و محبتہم ہوتے نہ طالب جو وہ مطلوب نہ ہوتا

سر اپنا رہ عشق میں دیتا جو نہ جرأتؔتو مجمع عشاق کا سرکوب نہ ہوتا

— جرات قلندر بخش