11 اشعار

حسن اے جان نہیں رہنے کا

Husn aye jaan nahin rehne ka

حسن اے جان نہیں رہنے کاپھر یہ احسان نہیں رہنے کا

نذر کی جیب تو اے جوش جنوںاب یہ دامان نہیں رہنے کا

پردہ مت منہ سے اٹھانا یکبارمجھ میں اوسان نہیں رہنے کا

تو چلا اور یہ جی اس تن میںکسی عنوان نہیں رہنے کا

گل کو کیا روتی ہے تو اے بلبلیہ گلستان نہیں رہنے کا

دم کا میہماں ہوں میں اب بھی توآ کے مہمان نہیں رہنے کا

نبڑی مے اور گلستان میں گلتیرے قربان نہیں رہنے کا

اب بھی آنا ہے تو آ ورنہ میاںیہ بھی سامان نہیں رہنے کا

دل کی درخواست جو کی تو نے تو یاںاب یہ اک آن نہیں رہنے کا

ایسے میں اپنی امانت لے جاپھر تجھے دھیان نہیں رہنے کا

ہجر کے غم سے نہ گھبرا جرأتؔاتنا حیران نہیں رہنے کا

— جرات قلندر بخش