9 اشعار

بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کر

Bin dekhe us ke jaave ranj-o-azaab kyun kar

بن دیکھے اس کے جاوے رنج و عذاب کیوں کروہ خواب میں تو آوے پر آوے خواب کیوں کر

پاس اس نے جو بٹھایا دل اور تلملایااب جائے گا خدایا یہ اضطراب کیوں کر

وہ جب سے ہے سفر میں دل مضطرب ہے بر میںبیٹھیں ہم اپنے گھر میں خانہ خراب کیوں کر

ساقی فراق جاناں حلق اپنے کا ہے درباںاترے گلے سے پھر یاں قرط شراب کیوں کر

غمگیں ہیں جس کے غم سے واقف نہیں وہ ہم سےیا رب پھر اس الم سے ہو صبر و تاب کیوں کر

واں ہے سوال ہر دم رکھیے ملاپ کم کمحیران ہیں کہ دیں ہم اس کا جواب کیوں کر

چھوٹا ہے سن تمہارا مکھڑا ہے پیارا پیاراپھر ہو بھلا گوارا شرم و حجاب کیوں کر

مجھ کو تو ہے یہ حیرت ایسی رہی جو عصمتتو ہوگا صرف عشرت عہد شباب کیوں کر

اب طور کی تو اپنے جرأتؔ غزل سنا دےدیکھیں تو اس کے ہوں گے شعر انتخاب کیوں کر

— جرات قلندر بخش