12 اشعار

جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں

Jazba-e-ishq ajab sair dikhaata hai hamein

جذبۂ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیںاپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں

بزم میں تکتے ہیں منہ اس کا کھڑے اور وہ شوخنہ اٹھاتا ہے کسی کو نہ بٹھاتا ہے ہمیں

کیا ستم ہے کہ طریق اپنا رہ عشق میں آہکوئی جس کو نہیں بھاتا وہ ہی بھاتا ہے ہمیں

اس ترقی میں تنزل میں ہے کہ جوں قامت طفلآسماں عمر گھٹانے کو بڑھاتا ہے ہمیں

بند کر بیٹھے ہیں اب آنکھ جو ہم تو اللہنظر آتا جو نہیں سو نظر آتا ہے ہمیں

ٹھنڈے ہونے کا بھی تا سمجھیں مزا اتنے لیےچرخ مانند چراغ آہ جلاتا ہے ہمیں

اے خوشا یہ کہ وہ ہنسنے کے لیے روتا ہےاپنی خورسندیٔ خاطر کو کڑھاتا ہے ہمیں

مل کے ہم اس سے جو ٹک سوویں تو دکھ دینے کوبخت بد خواب جدائی کا دکھاتا ہے ہمیں

ہم ہیں وہ مرغ گرفتار کہ اپنے پر سےوارنا جس کو کہ ہووے وہ چھڑاتا ہے ہمیں

لا کے اس شوخ ستم گر کے دو رنگی کے پیامنہ ہنساتا ہے کوئی اب نہ رلاتا ہے ہمیں

سن سے جا بیٹھتے ہیں اس کے تصور میں ہم آہبزم خوباں میں کوئی پاس بلاتا ہے ہمیں

محو نظارہ ہوں کیا ہم کہ بہ قول جرأتؔاپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں

— جرات قلندر بخش