12 اشعار

دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیں

Daam mein hum ko laate ho tum dil atka hai aur kahin

دام میں ہم کو لاتے ہو تم دل اٹکا ہے اور کہیںشعر پڑھانے ہم سے اور مضمون گٹھا ہے اور کہیں

آنکھیں ذرا ملانا ادھر کو کیوں جی یہ کیا باتیں ہیںبات کی ہم سے اٹھانی لذت جی کا مزا ہے اور کہیں

حق تو ہے کچھ حال دل اپنا کہتے ہیں جب تم سے ہمکان لگائے سنتے ہو پر دھیان لگا ہے اور کہیں

دیکھیو یہ عیاری کوئی کیا کیا ہم کو لپیٹے میںوہ بت پر فن لیتا ہے دل جس نے دیا ہے اور کہیں

ٹوک کے اس سے بات کروں تو یوں وہ کہے ہے چتون میںمجھ کو نہ چھیڑو دھیان اجی اس وقت مرا ہے اور کہیں

ہم سے زبانی ملنے کو تم کہتے ہو ہم جانتے ہیںدل سے پر آنے جانے کا اقرار کیا ہے اور کہیں

دیکھ کے ہم کو جو کہتے ہو تم آؤ بیٹھو بات کروباتیں یہ سب ظاہر کی ہیں انس ہوا ہے اور کہیں

اب تو کچھ ہمدرد سے میرے آتے ہو تم مجھ کو نظرتم سا شاید کوئی پیارے تم کو ملا ہے اور کہیں

بیٹھے ہو مجھ پاس ولیکن گھبرانے سے نکلے ہےآنکھ بچا کر اٹھ جانے کا دھیان بندھا ہے اور کہیں

ظاہر میں تم کہتے ہو مجھ کو بیٹھو ابھی تو جاؤ نہ گھرمجھ کو تو معلوم ہے جو پیغام گیا ہے اور کہیں

باتیں کر کے لگاوٹ کی یہ کافر ہوں گر جھوٹ کہوںدل کو مرے تم لیتے ہو جی نام خدا ہے اور کہیں

حیف ہے اس کے ہونے پر جو یاد کرو تم غیر کو جانجرأتؔ میں جو نہیں سو ایسی بات وہ کیا ہے اور کہیں

— جرات قلندر بخش