5 اشعار

جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہم

Jo raah-e-mulaaqaat thi so jaan gaye hum

جو راہ ملاقات تھی سو جان گئے ہماے خضر تصور ترے قربان گئے ہم

جمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہرجس بزم میں با حال پریشان گئے ہم

اس گھر کے تصور میں جوں ہی بند کیں آنکھیںصد شکر کہ بے منت دربان گئے ہم

کل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ باتجرأتؔ کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحرجو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

— جرات قلندر بخش