10 اشعار

ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جا

Hum to kehte the dam-e-aakhir zara susta na ja

ہم تو کہتے تھے دم آخر ذرا سستا نہ جالے، چلے ہم جان سے، مختار ہے اب جا نہ جا

لے دل بے تاب آتا ہے وہ کر لے عرض حالدیکھتے ہی اس کی صورت اس قدر گھبرا نہ جا

تنگ ہو کر کس ادا سے وصل کی شب کو وہ شوخمجھ سے کہتا تھا کہ ہے ہے اس قدر لپٹا نہ جا

پاس آنا گر نہیں منظور تو آ آ کے شکلاز رہ شوخی مجھے تو دور سے دکھلا نہ جا

جاؤں جاؤں کیا کہے ہے بس لڑائی ہو چکیپیار سے میرے گلے اب جان جاں لگ جا نہ جا

کیا سماں رکھتا ہے وہ محفل سے اٹھنا یار کااور اشاروں سے مرا کہنا کہ آ جانا، نہ جا

کہتے ہیں آتا ہے وہ اے جان بر لب آمدہتو خدا کے واسطے ٹک اور بھی رہ جا نہ جا

روٹھ کر جب مجھ سے وہ جاتا ہے تو کر ضبط آہپہلے تو کہتا ہوں میں ''تو جان اب جا یا نہ جا''

لیک اٹھ کر جب وہ جاتا ہے تو بے تابی سے میںووں ہی کہتا ہوں ''ترے قربان جاؤں آ، نہ جا''

لوٹتا ہے جرأتؔ بیتاب جانے سے ترےیوں اسے تڑپا کے تو اے شوخ بے پروا، نہ جا

— جرات قلندر بخش