12 اشعار

کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیا

Kal jo rone par mere tik dhyaan us ka pad gaya

کل جو رونے پر مرے ٹک دھیان اس کا پڑ گیاہنس کے یوں کہنے لگا کچھ'' آنکھ میں کیا پڑ گیا؟''

بیٹھے بیٹھے آپ سے کر بیٹھتا ہوں کچھ گناہپاؤں پڑنے کا جو اس کے مجھ کو چسکا پڑ گیا

جنگ جوئی کیا کہوں اس کی کہ کل پرسوں میں آہصلح ٹک ہونے نہ پائی تھی کہ جھگڑا پڑ گیا

سوزش دل کچھ نہ پوچھو تم کہ ٹک سینے پہ راتہاتھ رکھتے ہی ہتھیلی میں پھپھولا پڑ گیا

بس کہ تھا بے بال و پر میں دامن صیاد پرخون بھی اڑ کر دم بسمل نہ میرا پڑ گیا

جو مرے بد گو ہیں تم ان کو سمجھتے ہو بھلاواہ وا مجھ سے تمہیں یہ بیر اچھا پڑ گیا

کیوں پڑا دم توڑتا ہے بستر غم پر دلاآہ کس بے درد کے ملنے میں توڑا پڑ گیا

بہتری کا منہ نہ دیکھا مر ہی کر پائی نجاتکڑھتے کڑھتے دل مرا بیمار ایسا پڑ گیا

باتیں کرتے کرتے پیارے دل دھڑکنے کیوں لگاسن کے کچھ آہٹ کہو کیا دل میں کھٹکا پڑ گیا

رک گیا ایسا ہی وہ جو پھر نہ آیا کل جو ٹکہاتھ اس کے پاؤں پر بھولے سے میرا پڑ گیا

میں تو یاں اس بات پر اپنے پڑا ملتا ہوں ہاتھاور سارے شہر میں کچھ اور چرچا پڑ گیا

گرچہ ہوں میں نام کو جرأتؔ پر اب اس کی طرفآنکھ اٹھا سکتا نہیں یہ دل میں خطرا پڑ گیا

— جرات قلندر بخش