14 اشعار

اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا

Apne sukoon-e-dil ka ab mil gaya sahara

اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا

«اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہارا» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ ہے۔

اپنے سکون دل کا اب مل گیا سہاراامروز شاہ شاہاں مہماں شدست مارا

نام خدا محمد ہے کتنا نام پیارادل کی مراد پائی جس نے انہیں پکارا

قربان ہوں میں اس کی بندہ نوازیوں پرپردے میں عبدیت کے اک روپ جس نے دھارا

کڑوے سہی بظاہر یہ گھونٹ جبر غم کےتم میرے ہو تو جاؤ سب تلخیاں گوارا

ہم آپ ہی کے در کے ٹکڑوں پہ پل رہے ہیںسب آپ کا تصدق سب آپ کا اتارا

میں کس شمار میں ہوں میری نجات کتنیبخشش کو میری بس ہے اک آپ کا اشارا

حسن عمل کا غرہ سب سے بڑی مصیبتدامان مصطفائی سب سے بڑا سہارا

بک کر کسی کے ہاتھوں بے فکر جی رہے ہیںہم خود کسی کے ٹھہرے اب کیا رہا ہمارا

سو عزتوں کی عزت اک ان سے ربط و نسبتسب کچھ یہی ہے ورنہ کیا تیر ہم نے مارا

طالع اسی کے طالع قسمت اسی کی قسمتجس پر نظر تمہاری جس پر کرم تمہارا

رفعت کو ناز ان پر پاکی نثار ان پرتطہیر کی طرف ہے اس سے مرا اشارا

فیضان محی دیں کا پھیلاؤ پوچھنا کیاملتا نہیں کہیں بھی اس بحر کا کنارا

خوش بخت وہ گدا جو پیران پیر کا ہےجتنا بڑا گھرانا اتنا بڑا سہارا

ہے آپ ہی کے در کا ادنیٰ غلام کاملؔاس پر بھی چشم رحمت یا سیدی خدا را

— کامل شطاری