10 اشعار

تمہارے جلوے چھپے ہیں کہیں چھپانے سے

Tumhare jalwe chhipe hain kahin chhupane se

تمہارے جلوے چھپے ہیں کہیں چھپانے سے

«تمہارے جلوے چھپے ہیں کہیں چھپانے سے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 27 سیکنڈ ہے۔

تمہارے جلوے چھپے ہیں کہیں چھپانے سےجھلک رہی ہے حقیقت ہر اک فسانے سے

میں تم کو دیکھ کے جیتا ہوں اک زمانے سےمجھے نہ دور کرو اپنے آستانہ سے

یہ کس نے میرے نشیمن میں بجلیاں بھر دیںچمن کو آگ نہ لگ جائے آشیانے سے

زباں رکے گی مگر چشم تر کو کیا کیجےچھپا ہے سوز محبت کہیں چھپانے سے

بجھے گی تجھ سے نہ اے چارہ گر لگی دل کییہ آگ اور بھڑک جائے گی بجھانے سے

یہ نشہ وہ ہے جو اترا ہے اور نہ اترے گاچلے ہیں پی کے ہم اک ایسے بادہ خانے سے

کسی کو دیر کسی کو حرم مبارک ہومجھے تو کام ہے بس تیرے آستانہ سے

مجھے بھی بھیک نگاہ کرم کی مل جائےپڑا ہوں در پہ ترے میں بھی اک زمانے سے

تمہارے در پہ مروں مر کے خاک ہو جاؤںخدا کرے مری مٹی لگے ٹھکانے سے

جو میرے ساتھ ہے کاملؔ یہ کیا تماشا ہےاسی سے ملنے کی حسرت ہے اک زمانے سے

— کامل شطاری