14 اشعار

ہمارے خاکے اڑا اڑا کر وہ اپنا نقشہ جما رہے ہیں

Hamare khaake uda uda kar woh apna naqsha jama rahe hain

ہمارے خاکے اڑا اڑا کر وہ اپنا نقشہ جما رہے ہیں

«ہمارے خاکے اڑا اڑا کر وہ اپنا نقشہ جما رہے ہیں» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

ہمارے خاکے اڑا اڑا کر وہ اپنا نقشہ جما رہے ہیںمجال کس کی جو ان سے پوچھے حضور یہ کیا بنا رہے ہیں

محبت ایسی بری بلا ہے فریب نظارہ کھا رہے ہیںہم ان کے دھوکوں کو جان کر بھی پھر ان کے دھوکے میں آ رہے ہیں

نئے نئے داغ دے کے دل کو نئے نئے گل کھلا رہے ہیںغریب عاشق کا دخل ہی کیا وہ اپنے گھر کو سجا رہے ہیں

وہ ہم پہ مشق ستم سے اپنے ہمارا دل آزما رہے ہیںکرم کا مصدر بنے ہوئے ہیں ستم کا مرکز بنا رہے ہیں

ہمارا کیا حال پوچھتے ہو تڑپ رہے تلملا رہے ہیںنفس نفس سوز مستقل ہے مزے محبت کے آ رہے ہیں

وہی نگاہوں میں بس رہے ہیں وہی تصور پہ چھا رہے ہیںکھلی ہوں یا بند میری آنکھیں وہی کھڑے مسکرا رہے ہیں

نظر اٹھاتے ہیں جس طرف بھی وہی نظر ہم کو آ رہے ہیںوجود ہر شئے ہے جن کے دم سے انہیں کو ہر شئے میں پا رہے ہیں

مجسم اک شعر و نغمہ بن کر جو زیر لب گنگنا رہے ہیںوہی ہیں فکر و نظر کا مرکز انہیں کے ہم گیت گا رہے ہیں

ہے جس سے میری حیات روشن نہیں نہیں کائنات روشنوہی تو ہے شمع بزم عالم اسی سے ہم لو لگا رہے ہیں

دیا ہے دم جس کی ہر ادا پر میں جس سے مجبور ہوں وفا پرجناب واعظ مجھے اسی سے خبر نہیں کیوں ڈرا رہے ہیں

کسی کی یہ شوخیاں تو دیکھو یہ ہم سے ہمدردیاں تو دیکھویہ جو آگ دل میں دبی ہوئی تھی اسے ہوا دے کے جا رہے ہیں

یہ کیوں سویرا سا ہو چلا ہے نقاب کس نے الٹ دیا ہےیہ چاند کیوں پڑ گیا ہے پھیکا ستارے کیوں جھلملا رہے ہیں

خبر نہیں کس نے فتح پائی شکست حصے میں کس کے آئیہماری دنیائے دل بدل کر وہ جانے کیوں مسکرا رہے ہیں

وہی تو مقصود دل ہیں کاملؔ وہی تو ہیں زندگی کا حاصلوہ میری دنیائے آرزو میں شریک ہر مدعا رہے ہیں

— کامل شطاری