9 اشعار

حیات عشق کا اک سرمدی پیام آیا

Hayaat-e-ishq ka ik sarmadi payam aaya

حیات عشق کا اک سرمدی پیام آیا

«حیات عشق کا اک سرمدی پیام آیا» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

حیات عشق کا اک سرمدی پیام آیانبی کے نام پہ مرنا بھی کتنا کام آیا

طریق عشق میں ایسا بھی اک مقام آیاخدا کے نام سے پہلے نبی کا نام آیا

یہی سمجھ کے ادھر بھی ہو اک نگاہ کرمہمارے در کے غلاموں کا اک غلام آیا

تمہیں تو آرزوئے دل تمہیں تو مقصد جاںنئی حیات ملی جب تمہارا نام آیا

سگان در سے بھی نسبت ہے جن کو حضرت کےزہے نصیب اگر ان میں ہمارا نام آیا

خدا دراز کرے عمر سوز عشق نبیسلوک غم کی ہر اک موڑ پر یہ کام آیا

نبی کے مصحف رخ پر جہاں نگاہ پڑیہمارے سامنے سجدے کا اک مقام آیا

خطا معاف ہو پروردۂ عنایت کیحضور لے کے جو میں نعت ناتمام آیا

قدم حضور کے دیکھو تمہارا سر دیکھوجنوں میں کب سے یہ کاملؔ خیال خام آیا

— کامل شطاری