6 اشعار

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے

Jo yaar ka mansha hai shayaan-e-ita'at hai

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے

«جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہے» کامل شطاری کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

جو یار کا منشا ہے شایان اطاعت ہےاپنا یہی مذہب ہے اپنی یہی ملت ہے

اللہ میں بندے میں تمیز ہی نسبت ہےسمجھو تو یہی دوری دوری نہیں قربت ہے

مطلوب ہو یا طالب تفریق کی صورت ہےاس فرق کا اٹھنا ہی تکمیل محبت ہے

دونوں میں برابر کا احساس محبت ہےجو عشق کی صورت ہے وہ حسن کی صورت ہے

ان سے مجھے نسبت ہے مجھ سے انہیں نسبت ہےقربان محبت کے کیا شان محبت ہے

برباد جو ہوتا ہے بنتا ہے وہی کاملؔہر بے سر و سامانی سامان محبت ہے

— کامل شطاری