16 اشعار

اعتراف

Aitraf

بات کہنا نہیں آتی مجھے لکھنا نہیں آتاسطر کہنے کا ہنر نظم بنانے کا سلیقہ

بات کرنے کا قرینہ مجھے کچھ بھی نہیں آتاکوئی صورت فن عرض ہنر آ جائے مجھے بھی

شام کو شام کہوں اور نگاہوں پہ اندھیرے اتر آئیںصبح کو صبح لکھوں اور پس‌ سطر تپاں دھوپ بھرا دن نکل آئے

کل بھی تاثیر تہی تھا مرا دامان سخن آج بھی تاثیر تہی ہےمیرا دامان دعا سر دربار عطا آج بھی فیضان طلب ہے

میرے مولیٰ تیرا بندہ ترے اکرام کے لائق نہیں لیکنمیرا بچپن ترے انعام کا شائق ہے ابھی تک

کیا کہوں کوئی بھی شے اصل پہ قائم نہیں رہتیبات پیرائے کے صحرا میں نکل جائے تو گھر لوٹ نہ پائے

استعارے کی زباں چاٹنے آ جائے مرے عجز کی شوخی مرے جذبوں کی حرارت مرے لفظوں کی بصارتہر کنایہ مرے تپتے ہوئے جذبات تپاں راکھ کی جھلی کی طرح اوٹ میں لے لے

صاف شفاف تپاں راکھ کی چادرہولے ہولے مرے جذبات کے سر تک سرک آئے

میرے مولا مرا فن بھی مری بے جان محبت کی طرح نم سے تہی ہےپھر بھی اے مالک عزت

جانے کیوں میرے گل اندام مربی مجھے چھونے پہ رضامند نہیں ہیںجانے کیوں میرے گل اندام کو ڈر ہے

راکھ کے ڈھیر میں شاید کوئی جذبہ ابھی زندہ ہو اور اس دستحنا رنگ کی پوریں نہ جھلس دے

لفظ بھوبھل کی تہیں ہیںآتش جذب کہیں سرو فلک بوس کا دامن نہ جلا دے

میرے مولا مجھے کچھ بھی نہیں آتابات کرنے کا ہنر شعر سنانے کا سلیقہ

میرے وارث مرا سینہ ترا گھر ہےمیرے محسن ترا گھر باب کشا ہے

کوئی آئے مرا دل باب‌ کشا ہےلفظ بھوبھل کی تہیں ہیں

سچ تو یہ ہے مری بھوبھل مری بے جان محبت کی طرح غم سے تہی ہے

— خالد احمد