10 اشعار

پتھر سے کیا شکل نکالے یہ ہم کیا جانیں

Patthar se kya shakl nikale ye hum kya jaanein

پتھر سے کیا شکل نکالے یہ ہم کیا جانیںآذر کس پیکر میں ڈھالے یہ ہم کیا جانیں

کون ہوا کا ہاتھ بڑھائے ناؤ الٹ جائےدریا کودے کون اچھالے یہ ہم کیا جانیں

نیند بھرے ہلکورے لیں راتیں کس کے ہاتھوںکون چراغ صبح اجالے یہ ہم کیا جانیں

کیا کہئے کس زہر کی کاٹ رگوں میں پھرتی ہےکس نے بجھائے زہر میں بھالے یہ ہم کیا جانیں

اک پانی کی اوٹ میں ساری دنیا بستی ہےکس نے بھرے آنکھوں کے پیالے یہ ہم کیا جانیں

کھوئی ہوئی بھیڑیں ہیں ہم جانے کس گلے کیکس دن آ جائیں رکھوالے یہ ہم کیا جانیں

ہر دن اس کا ہر شب اس کی ہر موسم اس کاکس نے تنے آنکھوں پر جالے یہ ہم کیا جانیں

ان ہاتھوں کی چھاؤں میسر آئے گی کب تککس دن پیڑ یہ چھاؤں اٹھا لے یہ ہم کیا جانیں

سات ستارے انگ تمہارے پلک پلک تارےکس نے جگائے یہ اجیالے یہ ہم کیا جانیں

موت کی نیند سلا دے خالدؔ کن ہاتھوں کی تھپکنیزوں پر سر کون اچھالے یہ ہم کیا جانیں

— خالد احمد