16 اشعار

زندگی بھر یہ بوجھ ڈھونا ہے

Zindagi bhar ye bojh dhona hai

زندگی بھر یہ بوجھ ڈھونا ہےآگہی عمر بھر کا رونا ہے

شام غم بوند بوند پگھلے گیلمحہ لمحہ حنائی ہونا ہے

مفلسی بچ رہی خساروں سےکچھ نہ پانا ہی کچھ نہ کھونا ہے

روح تک جذب کر لیا ان کواب انہیں حرف میں سمونا ہے

عکس در عکس کب وہ مہکیں گےآئنہ کب گلاب ہونا ہے

رات ان کے بدن کی چاندی تھیصبح ان کے بدن کا سونا ہے

کنج لب کنج چشم حجلۂ زلفدجلۂ صبح کونا کونا ہے

اک مسیحا نے گھر بلایا ہےآج پانی شراب ہونا ہے

عرش پر چاند ہے ستارے ہیںفرش پر کانچ کا کھلونا ہے

سایۂ دار سایۂ دیوارعشق کا اوڑھنا بچھونا ہے

کاش کوئی ہمیں یہ بتلا دےکس کے سینے سے لگ کے رونا ہے

کس کے سینے پہ داغ کتنے ہیںاک نہ اک دن حساب ہونا ہے

جان جاں آئنے کدھر جائیںآمنا سامنا تو ہونا ہے

اے دل اہل جمال کیا جانیںاب ہمیں تجھ سے ہاتھ دھونا ہے

خواب و خواہش کے درمیاں خالدؔماتم آرزو بھی ہونا ہے

علم عرفان آگہی خالدؔخاک کے ساتھ خاک ہونا ہے

— خالد احمد