7 اشعار

پھر وہی مہرباں ہوا آئی

Phir wahi mehrban hawa aai

پھر وہی مہرباں ہوا آئیاے مری بے چراغ تنہائی

بین کرنے لگیں نہ سناٹےپاسداران گوش و گوپائی

کس نے توفیق سے سوا پایادل نے غم آنکھ نے نمی پائی

عشق کا اجر ہے دل رسواپارسائی عذاب دانائی

یہ اسی شہر کے منارے ہیںاے تحیر سرشت بینائی!

چار جانب وہی دھندلکے ہیںگمرہو! پھر وہی گلی آئی

نا سپاسوں میں با وقار نہ بناے مری بے وقار گویائی

— خالد احمد