7 اشعار

رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرے

Rag rag ek tasawwur ek umang bhare

رگ رگ ایک تصور ایک امنگ بھرےاک خوشبو پھولوں میں کیا کیا رنگ بھرے

فن کی اپنی موج دکھوں کی اپنی رواک ترکش میں کوئی کتنے خدنگ بھرے

کون لکیروں کو تصویروں میں ڈھالےکس کا لہو یہ خاکے یہ نیرنگ بھرے

رنگ لباس کو رنگ بدن سے آب ملےگنگ حروف میں نغموں کا آہنگ بھرے

کس کی آنکھیں تہمت لمس اٹھائیں گیبجلی کے تن میں ہیں کس کے رنگ بھرے

پولے پولے پاؤں دھرے پروائی بھیخاک میں اڑتے رنگ یہ کس کے سنگ بھرے

کاہش کا دریا بھی خواہش کا گھر تھاپانی بھرنے آئے اور نہنگ بھرے

— خالد احمد