نظم 10 اشعار

ایک پیدل چلنے والے دوست کا نوحہ

Aik Paidal Chalne Waale Dost Ka Noha

ہجوم سے بچ کےسونے سونے خموش رستوں پہ چلنے والا

وہ اس زمانے میں پا پیادہ مسافرت کا امینرستہ بدل چکا ہے

نظر عبث اس کا نقشمانوس راستوں پر

تلاش کر کے چونکتی ہےمجھے خبر ہے وہ جا چکا ہے

وہ جا بجا راہ میں ابھرتی شبیہ اس کینگاہ کی تشنگی نے مثل سراب ایجاد کر رکھی ہے

جب آخری بار اس کو دیکھاتو اس کا رستہ بدل چکا تھا

ہر اک طریقہ بدل چکا تھاہجوم سے بچ کے چلنے والا

ہجوم کے ساتھ چل رہا تھاجب آخری بار اس کو دیکھا

تو عمر بھر کی مسافرت کے خلافاس کو سوار دیکھا

اور اس کے پہلو میں پا پیادہ ہجوم کو سوگوار دیکھا

— خورشیدرضوی