غزل 8 اشعار

دل کی خلوت سے زباں تک کا سفر کس نے کیا

Dil ki khalwat se zabaan tak ka safar kis ne kiya

دل کی خلوت سے زباں تک کا سفر کس نے کیادرد کے عکس گریزاں کو امر کس نے کیا

مسکرا کر زخم کھانے کی بنا کس نے رکھیتلخیوں کو زیست سے شیر و شکر کس نے کیا

تم نے یا ہم نے لکھے پیغام فصل گل کے نامخوشبوؤں کو گلستاں میں نامہ بر کس نے کیا

کیا یہ اس بے دست و پا اندھے صدف کا کام ہےبوند کو پانی کی ظلمت میں گہر کس نے کیا

کس نے ماہ نو کی ڈالی پاؤں میں بیڑی مرےشام کے منظر کو میرا ہم سفر کس نے کیا

پیڑ کو کس نے ہلایا ہے کہ اڑتے ہیں پرندذہن میں ٹھہرے ہوؤں کو دربدر کس نے کیا

زلزلوں نے یا جبیں گھستے ہوئے سیلاب نےرفتہ رفتہ گھر کی بنیادوں میں گھر کس نے کیا

کس نے چھوڑا آسماں تک لا کے پتھر کی طرحمیں پرندہ تھا مجھے بے بال و پر کس نے کیا

— خورشیدرضوی