غزل 6 اشعار

کہیں بھی مقام صدائے لب نہیں آ سکا

Kahin bhi maqaam-e-sada-e-lab nahin aa saka

کہیں بھی مقام صدائے لب نہیں آ سکامیں تری صدائے نگہ پہ کب نہیں آ سکا

ترے ہجر تیرے وصال اپنے خیال میںکسی آئنے میں میں سب کا سب نہیں آ سکا

ترے قرب میں مجھے موت یاد نہیں رہیوہ سحر ہوئی کہ خیال شب نہیں آ سکا

جو تمام عمر رہا سبب کی تلاش میںوہ تری نگاہ میں بے سبب نہیں آ سکا

ہوئی ایسے سایۂ رنج میں مری تربیتکبھی کوئی وسوسۂ طرب نہیں آ سکا

یہ مری متاع گراں ہوا میں بکھر گئیمجھے اپنے سوز نہاں کا ڈھب نہیں آ سکا

— خورشیدرضوی